پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے بامعنی مذاکرات کرے ۔(برین نشاط) میں ظفر اکبر بٹ کا خطاب
سرےنگر 12 مارچ --سینئر حریت رہنما وسا لوےشن
موومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ نے جنوبی ایشیا میں پائیدار اور دیر پا امن کے قیام کےلئے مسئلہ کشمیر کے دیرپاحل کوناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت بامعنی مذاکرات کا آغازکریں،
کشمیر میں کالے قوانین کے نفاذ اور بھارتی فورسز کو حاصل بے پناہ اختیارات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے ان قوانین کو فوری طور کلعدم قرار دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کے ہوتے اور بھارتی فورسز کے بے پناہ جماﺅ کی وجہ سے کشمیری عوام خوف کے ماحول میں زندگی گذارنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔برےن نشاط سرےنگر مےں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطا ب کرتے ہوئے انہوں نے مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کےلئے بھارت کو مذاکرات کےلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل
ہونے سے ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہوسکتا ہے
۔انہوںنے کہا کہ کشمیری مسئلے کے بنیادی فریق ہیں اور انکی مذاکرات میں شرکت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے آنجہانی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کشمیری عوام سے جو وعدے کئے ہیں اُن کو عملی جامہ پہنانا بھارت کی موجودہ قیادت کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے۔انہوںنے کہا کہ بھارتی فوجیوں اور پولےس کی طرف سے کشمیریوں کے قتل عام سے صورتحال مزید ابتر ہوگی۔ سی آر پی ایف اور دوسرے فورسز کی طرف سے کشمیریوں پر طاقت کے وحشیانہ استعمال سے بھارت کے جمہوری ملک ہونے کے دعوﺅں کی نفی ہوتی ہے۔ بٹ نے کہا کہ کشمیر اور پورے خطے کی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ عالمی برادری کو آگے آکر مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے ۔انہوںنے کہا کہ جب تک بھارتی حکومت زمینی حقائق کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے علاقے سے فوجیں واپس نہیں بلاتی صورتحال میں کوئی بہتری کا امکان نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ کشمیر کوئی زمینی تنازعہ نہیں بلکہ یہ لاکھوں لوگوں کے پیدائشی حق کا مسئلہ ہے اور کشمیریوں کی امنگوں اور خواہشات کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔بعد ازاں ظفر اکبر بٹ کی قیادت میںبرےن نشاطسے مزار شہداءتک ایک جلوس نکالا گیا ۔ اس موقع پر اسلام اور آزادی کے فلک شگاف نعروں کے درمیان ظفر اکبر نے طالب علم زاہد فاروق کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جنگل کا قانون ہے اور کشمیری عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ فورسزکو یہاں لوگوں کا قتل عام کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور علمبرداروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں رکوانے اور کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالیں۔جناب ظفر نے کم سن شہید ہ شافعی ،شہید جاوید احمد سقہ اور شہید فضل کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے اس بات کا عہد کیا ہے کہ شہیدوں کے مشن کی ہر حال میں آبیاری کی جائے گی ۔