نماز جمعہ کے اجتماعات میں مقررین ائمہ اور خطیب ظلم و زیادتی کیخلاف پرزور صدائے احتجاج بلند کریں
: 02/07/09
کل جماعتی حریت کانفرنس کا ایک غیر معمولی اجلاس زیر صدارت چیرمین حریت میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق آج موصوف کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا ۔ اجلاس میں ایکزیکٹیو اراکین میں جناب پروفیسر عبدالغنی بٹ آغا سید حسن موسوی ، جناب بلال غنی لون ، جناب فضل الحق قریشی، جناب مسرور عباس انصاری اور جناب مختار احمد وازہ نے شرکت کی۔۔
اجلاس میں رواں صورتحال کے مثبت اور منفی دونوں پہلوﺅں پر غور و وخوض کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس اجتماعیت کی علمبردار ہے ۔ چنانچہ اسکا گزشتہ ہفتوں میں بھر پور مظاہرہ بھی ہوا لیکن اب چونکہ کشمیر میں جیسے طوائف الملوکیت کا سکہ رواں کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ بدنظمی اور کجروی کیخلاف انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کشمیریوں سے اپیل کی جائے کہ وہ تحریک کے عظیم ترین مفاد میں اپنے شعور اور اپنے ضمیر سے کام لیکر انتشاری سیاست کا عمل کلی طور پر ترک کریں۔ اس سلسلے میں حریت کانفرنس چاہتی ہے کہ کل کوئی ہڑتال نہ ہو بلکہ نماز جمعہ کے اجتماعات میں مقررین ائمہ اور خطیب حضرات ظلم و زیادتی کیخلاف پرزور صدائے احتجاج بلند کریں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ظلم و زیادتی کیخلاف مشاورت سے کام لیکر پروگرام ترتیب دیکر اس پر عمل کیا جائے۔
اجلاس میں سانحہ شوپیاں کے سلسلے میں سرکاری لیت و لعل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیری قوم اپنی ماﺅں بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت کی حفاظت کیلئے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہو جائیگی اور اس مسئلہ کو جیسے بھی ممکن ہو تمام عالمی برادری تک پہنچانے کی بھر پور کوششیں کی جائیں گی تاکہ سرکاری مجرموں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔ اجلاس میں ڈورو اسلام آباد اور بارہمولہ قصبہ میں سرکاری سطح پر بے تحاشہ طاقت کے استعمال کو چنگیزیت کی علامت سمجھتے ہوئے کہا گیا کہ اگر یہ سلسلہ روکا نہیں گیا تو اسکے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ اجلاس میں چار معصوم نوجوانوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ ہمدردیوں اور زخمیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
دریں اثنا مجلس مشاورت شوپیاں کے پروگرام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد سرینگر کے احاطے میں ایک پرامن مظاہرہ کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی اور شوپیاں اور بارہمولہ کے قاتلوں کو پیش کرو۔ اہل شوپیاں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم کیا چاہتے آزادی کے نعرے بلند کئے گئے۔
