میرواعظ عمر فاروق اور ظفر اکبر بٹ پھر گھروں میں نظر بند کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت

 سرینگر 26جون -  کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے اہلیان شوپیاں کے ساتھ یوم اظہار یکجہتی کے پروگرام کے تحت وادی کے جملہ تحصیل ، ضلع صدر مقامات ، مختلف مساجد ،خانقاہوں اور امام باڑوں میں حریت قائدین اور ائمہ مساجد نے سانحہ شوپیاں میں ملوث مجرموں کی گرفتاری اور ان کو قرار واقعی سزا کی مانگ کے ساتھ ساتھ بعد ازنمازجمعہ پر امن احتجاجی مظاہرین کی قیادت کی ۔ جب کہ سرکاری انتظامیہ کی طرف سے حریت کے اس پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے ایک طرف صرف دو دن کے وقفے کے بعد حریت چیرمین جناب میرواعظ عمر فاروق اور سرکردہ حریت رہنما جناب ظفر اکبر بٹ کو کو گھر میں نظر بند کر کے ان کی سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں پر قدغن عائد کر دی اور دوسری طرف پوری وادی میں حریت کے احتجاجی پروگراموں کو ناکام بنانے کے لئے جگہ جگہ بھاری تعداد میں فورسز تعینات کرکے بلا اعلان کرفیو اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا گیا

 ،
حریت ترجمان حریت چیرمین جناب میرواعظ عمر فاروق اور سرکردہ حریت رہنما جناب ظفر اکبر بٹ کو پچیس دن کی نظر بندی کی رہائی کے بعد صرف دو دن کے وقفے کے بعد پھر گھروں میں نظر بند کرنے کی کاروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔۔۔

اس پوری صورتحال پہ تبصرہ کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین جناب میرواعظ عمر فاروق نے اس کاروائی کو بدترین سیاسی انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ان کے اور حریت پسند عوام کے حوصلوں کو پست نہیں کیا جا سکتا۔ میرواعظ نے کہا کہ حریت پسند عوام نے شرمناک سانحہ شوپیاں کے تعلق سے عملاً یکجہتی کا مظاہرہ کر تے ہوئے مجروح جذبات سے پوری وادی میں سراپا احتجاج بن کر نہ صرف اہلیان شوپیاں کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ہم تب تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک نہ مجرموں کوعبرتناک سزا دی جائے تاکہ اولیا کی سرزمین پہ آئندہ کسی کو اس قسم کی شرمناک کاروائیوں کو عملانے کی جرات نہ ہو۔ ادھر سرکردہ حریت قائدین نے وادی کے متعدد مقامات جن میں مولانا محمد عباس انصاری نے متی پورہ پٹن،آغاسید حسن الموسوی الصفوی نے بڈگام اور اندرکوٹ سمبل ، جناب سید سلیم گیلانی نے جامع مسجد حنفیہ منور آباد ، جناب غلام نبی زکی نے جامع مسجد سرینگر ، مولانا مسرور عباس انصاری نے جامع سجادیہ سرینگر ، جناب محمد یوسف نقاش نے گزربل شیخ محلہ ، عبدالمنان بخاری نے غازی پورہ چاڑورہ، حکیم عبدالرشید نے مسجد نوح بوٹہ کدل، مولوی محمد اشرف نے حبہ کدل شامل ہیں نے سانحہ شوپیاں میں ملوث مجرموں کی گرفتاری کی مانگ کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر سے مکمل فوجی انخلا ، کالے قوانین کے خاتمے اور محبوس حریت پسند وں کی فوری رہائی کی ضرورت پر زور دیا۔ جب کہ جناب جاوید احمد میر ، مشتاق احمد صوفی اور شاہد الاسلام نے بعد ازنماز جامع مسجد سرینگر سے ایک بہت بڑے احتجاجی جلوس کی قیادت کی ، جلوس میں شرکاءآزادی اور اسلام کے حق میں نعروں کے علاوہ ، شوپیاں سانحہ کے قاتلوں کو پیش کرو کے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے۔ جب جلوس نوہٹہ چوک میں پہنچا تو وہاں تعینات فورسز نے ٹیر گیس شلنگ اور لاٹھی چارج کا استعمال کر کے جلوس کے شرکا کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ حریت کے صدر دفتر کو کپواڑہ ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، ٹنگمرگ ، بیروہ، بڈگام، اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں ، ترال، گاندربل، کنگن، بانہال، قاضی گنڈ، پانپور اور دیگر کئی مقامات سے احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کی اطلاعات موصول ہوئیںاور جموں صوبہ کے کئی علاقوں سے بھی حریت کے پروگرام پر عوام کی طرف سے مکمل عمل آوری کے پیغامات بھی ملے۔جب کہ حریت ترجمان حریت چیرمین جناب میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق اور سرکردہ حریت رہنما جناب ظفر اکبر بٹ کو پچیس دن کی نظر بندی کی رہائی کے بعد صرف دو دن کے وقفے کے بعد پھر گھروں میں نظر بند کرنے کی کاروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ترجمان نے شہر میں آئے دن آوارہ نوجوانوں کی ہڑبونگ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کچھ غنڈوں کی طرف سے ایک مہذب شہری ثاقب الطاف جو معروف صحافی جناب الطاف حسین کے فرزند ہیں کی شدید مارپیٹ کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ میں ملوث آوارہ گرد افراد کو قرار واقع سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے اہلیان شوپیاں کے ساتھ یوم اظہار یکجہتی کے پروگرام کے تحت وادی کے جملہ تحصیل ، ضلع صدر مقامات ، مختلف مساجد ،خانقاہوں اور امام باڑوں میں حریت قائدین اور ائمہ مساجد نے سانحہ شوپیاں میں ملوث مجرموں کی گرفتاری اور ان کو قرار واقعی سزا کی مانگ کے ساتھ ساتھ بعد ازنمازجمعہ پر امن احتجاجی مظاہرین کی قیادت کی ۔ جب کہ سرکاری انتظامیہ کی طرف سے حریت کے اس پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے ایک طرف صرف دو دن کے وقفے کے بعد حریت چیرمین جناب میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کر کے ان کی سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں پر قدغن عائد کر دی اور دوسری طرف پوری وادی میں حریت کے احتجاجی پروگراموں کو ناکام بنانے کے لئے جگہ جگہ بھاری تعداد میں فورسز تعینات کرکے بلا اعلان کرفیو اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا گیا ، اس پوری صورتحال پہ تبصرہ کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین جناب میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق نے اس کاروائی کو بدترین سیاسی انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ان کے اور حریت پسند عوام کے حوصلوں کو پست نہیں کیا جا سکتا۔ میرواعظ نے کہا کہ حریت پسند عوام نے شرمناک سانحہ شوپیاں کے تعلق سے عملاً یکجہتی کا مظاہرہ کر تے ہوئے مجروح جذبات سے پوری وادی میں سراپا احتجاج بن کر نہ صرف اہلیان شوپیاں کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ہم تب تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک نہ مجرموں کوعبرتناک سزا دی جائے تاکہ اولیا کی سرزمین پہ آئندہ کسی کو اس قسم کی شرمناک کاروائیوں کو عملانے کی جرات نہ ہو۔ ادھر سرکردہ حریت قائدین نے وادی کے متعدد مقامات جن میں مولانا محمد عباس انصاری نے متی پورہ پٹن،آغاسید حسن الموسوی الصفوی نے بڈگام اور اندرکوٹ سمبل ، جناب سید سلیم گیلانی نے جامع مسجد حنفیہ منور آباد ، جناب غلام نبی زکی نے جامع مسجد سرینگر ، مولانا مسرور عباس انصاری نے جامع سجادیہ سرینگر ، جناب محمد یوسف نقاش نے گزربل شیخ محلہ ، عبدالمنان بخاری نے غازی پورہ چاڑورہ، حکیم عبدالرشید نے مسجد نوح بوٹہ کدل، مولوی محمد اشرف نے حبہ کدل شامل ہیں نے سانحہ شوپیاں میں ملوث مجرموں کی گرفتاری کی مانگ کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر سے مکمل فوجی انخلا ، کالے قوانین کے خاتمے اور محبوس حریت پسند وں کی فوری رہائی کی ضرورت پر زور دیا۔ جب کہ جناب جاوید احمد میر ، مشتاق احمد صوفی اور شاہد الاسلام نے بعد ازنماز جامع مسجد سرینگر سے ایک بہت بڑے احتجاجی جلوس کی قیادت کی ، جلوس میں شرکاءآزادی اور اسلام کے حق میں نعروں کے علاوہ ، شوپیاں سانحہ کے قاتلوں کو پیش کرو کے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے۔ جب جلوس نوہٹہ چوک میں پہنچا تو وہاں تعینات فورسز نے ٹیر گیس شلنگ اور لاٹھی چارج کا استعمال کر کے جلوس کے شرکا کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ حریت کے صدر دفتر کو کپواڑہ ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، ٹنگمرگ ، بیروہ، بڈگام، اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں ، ترال، گاندربل، کنگن، بانہال، قاضی گنڈ، پانپور اور دیگر کئی مقامات سے احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کی اطلاعات موصول ہوئیںاور جموں صوبہ کے کئی علاقوں سے بھی حریت کے پروگرام پر عوام کی طرف سے مکمل عمل آوری کے پیغامات بھی ملے۔