میرواعظ - الموسوی اور ظفر اکبر کی گھروں میں نظر بندی کی شدید مذمت

سرینگر19جون -- کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے حریت چیرمین جناب میرواعظ عمر فاروق صاحب جنہیں شوپیاں کا شرمناک سانحہ رونما ہونے کے ساتھ ہی گھر میں نظر بند کر کے بیس دن تک ان کی سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں پر سرکار کی طرف سے قدغن لگانے پر زبردست ناراضگی اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج لگاتار تیسرے جمعہ بھی میرواعظ کشمیر کو نماز جمعہ جیسے اہم مذہبی فریضہ کی ادئیگی اور مرکزی جامع مسجد میں اپنے منصبی فرائض پورے کرنے سے روکا گیا۔ ترجمان نے میرواعظ کی گرفتاری کو بلا جواز اور سیاسی انتقام گیری کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ ساتھ باقی محبوس اور گرفتار قائدین کی فوری رہائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلا جواز گرفتاریوں اور نظر بندیوں سے قائدین اور کشمیری قوم کی جذبہ آزادی کو توڑا نہیں جا سکتا۔ ترجمان نے حریت قائد آغا سید حسن الموسوی الصفوی اور ظفر اکبر بٹ کی گھروں میں نظر بندی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
ادھر حریت رہنما جناب پرویز احمد ڈار کی قیادت میں کیلر پلوامہ سے ایک جلوس شوپیاں کے مضافات میں پہنچا شرکاءجلوس ”قاتلوں کو پیش کر و “اور” ہم کیا چاہتے آزادی “کے فلک شگاف نعرے لگارہے تھے ۔ حریت کانفرنس کے میڈیا صلح کار جناب سید سلیم گیلانی رعناواری میں کمسن نعیم احمد ڈار کے گھر گئے اور ان کی افراد خانہ کی ڈھارس بندھائی ۔ اس موقعہ پر حریت چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے ٹیلیفون کے ذریعہ وہاں پر موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ظلم و جبر کی انتہا ہے اور اب معصومین کو بھی کالے قوانین کے تحت جیلوں میں مقید کر کے بھارت اپنی جمہوریت کی بھیانک شکل ازخود زپیش کر رہا ہے۔جب کہ حریت کانفرنس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد چیرمین جناب میر واعظ کی ہدایت پر شہید محمد شفیع کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کےلئے پلوامہ گیا۔ وفد میں محمد یوسف نقاش ، بشیر احمد اندرابی، عبدالمنان بخاری، اور جناب شاہین اقبال شامل تھے۔ وفد نے شہید محمد شفیع کے والد کے ساتھ ساتھ ان کے دوسرے اہل خانہ کو میر واعظ کا تعزیتی اور یکجہتی کا پیغام پہنچایا۔جناب میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق نے جناب سید علی شاہ گیلانی، شبیر احمد شاہ ، نعیم احمد خان ، محمد اشرف صحرائی ، محمد سلیم ننھا جی، اور آسیہ اندرابی کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے گرفتار قائدین کے عزم و ارادہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی پر زور دیا ۔