مقبوضہ کشمیر‘ گمشدہ افراد کے لواحقین کا احتجاجی مظاہرہ

 انصاف چاہتے ہیں۔ لواحقین کا مطالبہ
سرینگر 10 مئی مقبوضہ کشمیر میں گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم ایسوسی ایشن آف ڈس اپیرڈ پرسن (اے پی ڈی پی ) نے پرتاپ پارک سرینگر میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے حق میں پرامن احتجاجی دھرنا دیا۔ گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم کے ممبران نے مظاہرے میں گمشدہ افراد کے لواحقین کے عزیز و اقارب اور بچے بھی شامل تھے جنہوں نے ہاتھوں میں بےنراور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ”گمشدہ افراد کو باز یاب کرو،انسانی حقوق کی پامالی بند کرو“کے نعرے درج تھے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین نے کافی دیر تک اپنے عزیزوں کی بازیابی کے حق میں احتجاجی دھرنا دیا اور کٹھ پتلی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ لاپتہ عزیز وں کا پتہ لگائے یا کم از کم ان کے بارے میں معلومات فراہم کرے کہ وہ زندہ ہیں یا کہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔تنظیم نے صحافیوں کو بتایا کہ ہماری جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک نہ کٹھ پتلی انتظامیہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور ان کے بارے معلومات فراہم نہیں کرتی۔ نہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ایک کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا تاکہ گزشتہ 20برسوں سے دوران حراست لا پتہ نوجوانوں کے بارے میں تحقیقات کی جا سکے صحافیوں کو بتاےا کہ تحریک آزادی کی جدوجہد میں بھارتی فورسز نے ان کے رشتة دارون کو گرفتار کر کے لا پتہ کر دےا۔ کپواڑہ کی ا یک خاتو نے بتاےا کہ 10سال قبل بھارتی فوجی اہلکاروں نے ان کے بےٹے محمد ایوب خان کو گرفتار کیا اور دوران حراست لا پتہ کر دےا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ انہوں نے اپنے بےٹے کی بازیابی کیلئے جیلوں کا کوناکونا چھان مارا تاہم مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔