ظفر اکبر بٹ، یاسمین راجہ ، نقاش ،جاوید میر،شاہد الاسلام ، گرفتار

سرینگر 1جولائے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین جناب میر واعظ مولوی محمد عمر فاروق نے مجلس مشاورت شوپیان کے پروگرام کی حمایت کا اعلان کیا تھا،اُس سلسلے میں آج حریت کانفرنس کے اہتمام سے اویک احتجاجی مظاہرے کا انعقادکیا گیا۔جس میں ظفر اکبر بٹ، ر خاتون رہنماءیاسمین راجہ محمد یوسف نقاش ،جاوید احمد میر،شاہد الاسلام ،شکیل الرحمان اور ،وسیم احمد کے علاوہ حریت کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔حریت کا احتجاجی جلوس صدر دفتر واقع راجباغ سے یو۔این۔او آفس (UNO)کی طرف پیش قدمی کررہا تھا ،جہاں مقامی مبصر کو کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کے حوالے سے ایک یاداشت پیش کرنی تھی ،جس میں خصوصا ً سانحہ شوپیان میں ملوث اہلکاروں اور بارہمولہ میں نہتے مظاہرین پر بلاجواز فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیق اور ملوث اہلکاروںکی نشاندی کے لئے بین الاقوامی ادارے کو اُن کی زمہ داریوںکا احساس دلانا مقصود تھا۔مظاہرین شوپیان کے قاتلوں کو پیش کرﺅ ، بارہمولہ کے قتل عام میں ملوث اہلکاروں سزا دینے اور فوری گرفتاری کا مطالبہ سرینگر
،
،اسلام آباد ،بانڈی پورہ ،سوپور اور دیگر مقامات پر احتجاجی مظاہرین پر فورسز کی بربر یت اور سفاکیت کے خلاف نعرے بلند کررہے تھے۔احتجاجی مظاہرین کی پیش قدمی کو پولیس کی ایک بھاری جمیعت نے روک کر سر کردہ قائدین جن میں ظفر اکبر بٹ،محمد یوسف نقاش ،جاوید احمد میر،شاہد الاسلام ،شکیل الرحمان ،وسیم احمد اور خاتون رہنماءیاسمین راجہ کو گرفتار کیا،اور پولیس اسٹیشن راجباغ میں مقید کردیا۔حریت چیرمین نے پولیس کی زور زبردستی اور حریت قائدین کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے تحریک مزاحمت کو ہرگز دبایا نہیں جاسکتا۔حریت چیرمین نے کشمیر کے اطرف و اکناف میں پولیس اہلکاروں کی طرف سے طاقت کے بے تحاشہ استعمال اور نہتے لوگوں پر ظلم و تشدد ڈھانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ حریت چیرمین نے کل کی فورسز کی بلا جواز فائرنگ سے بارہمولہ کے ایک اور نوجوان عامراحمد کی شہادت پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوے اُن کے غمزدہ لواحقین اور اہلیان بارہمولہ کے ساتھ نہایت ہی درد مندی کے ساتھ یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
