طاقت اور کرفیو کا نفاذ کر کے سرکاری دہشت گردی کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے
سرینگر 29جون - کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین جناب میرواعظ عمر فاروق نے سانحہ شوپیاں کے بعد وہاں جاری پر امن احتجاجی عوام کے خلاف پولیس اور سرکاری فورسز کی جبر و زیادتیوں اور ظلم و تشدد کو نا قابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف اس واقعہ میں ملوث مجرموں کی پردہ پوشی کر کے نام نہاد حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپا رہی ہے اور دوسری طرف اس دلدوز واقعہ کے خلاف پر امن مظاہرین کو طاقت اور تشدد کے بل پر دبانے اور شوپیاں میں کرفیو کا نفاذ کر کے سرکاری دہشت گردی کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے
۔ سانحہ شوپیاں کے حوالے سے مجلس مشاورت کے احتجاجی پروگرام کو موثر طور عملانے کےلئے جناب میر واعظ کی صدارت میں حریت صدر پر منعقدہ جنرل کونسل کی ایک میٹنگ میں حکمت عملی وضح کی گئی ۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے جناب میرواعظ نے بارہمولہ میں ایک معصوم نوجوان محمد سلیم وانی کو شہید کرنے ،دیگر کئی افراد کو زخمی اور قصبے میں کرفیو کے نفاذ کو سرکاری فورسز کی بزدلانہ کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کو دبانے کےلئے سرکار جس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے اور ہمارے نوجوانوں کو قتل کرنے اور ہمارے عزت و ناموس سے کھلواڑ کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پہ استعمال کر رہی ہے اس کے خلاف نہ صرف بھر پور مزاحمت کی جائے گی بلکہ ا ن واقعات کو حقوق انسانی کے عالمی اداروں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کی نوٹس میں لانے کے لئے ایک بھر پور مہم چھیڑ دی جائے گی۔
دریں اثنا حریت چیرمین جناب میرواعظ د عمرفاروق کی ہدایت پر حریت کانفرنس کے ایک وفد نے جس میں حریت رہنما جناب سید سلیم گیلانی اور چودھری شاہین اقبال شامل ہیں نے سانبہ جموں جا کر آنجہانی رام پیارا صرف کے لواحقین کو حریت چیرمین کی طرف سے تعزیت پیش کی ۔ اس موقعہ پر حریت قائدین نے کہا کہ حریت کانفرنس مسئلہ کشمیر کو مذہب اور رنگ و نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ تاریخی ،سیاسی اور انسانی مسئلہ سمجھتی ہے اور اسی لئے شری رام پیارا صرف اس مسئلے کے حل کی اہمیت پر ہمیشہ زور دیا ۔ حریت قائدین نے جموں میں حریت کارکنوں کے کئی میٹنگوں سے بھی خطاب کیا تاہم حریت کانفرنس کے محبوس صوبائی صدر جناب نعیم احمد خان سے ضلعی انتظامیہ نے حریت قائدین کو ملنے کی اجازت نہیں دی جس کی حریت ترجمان نے شدید مذمت کی۔
