حریت رہنماء ظفر اکبر بٹ کی قیادت میں ایک وفدپٹن کے قریب گرفتار
سرینگر 30جون کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین جناب میر واعظ عمر فاروق نے شوپیان ،بارہمولہ ،سوپور اور بانڈی پورہ میں پُرامن احتجاجی مظاہرین پر پولیس اور فورسز کی طرف سے جاری تشدداوربلاجوازفائرنگ جس کے نتیجے میں اب تک کئی نوجوان شہید ہوئے ہیں، جن میں بارہمولہ میں کل پولیس اور فورسزکی فائرنگ سے بلال احمد ،طارق احمد ملک اور محمد سلیم شامل ہیں اور متعددافراد زخمی ہوئے کی شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے دعوئے داروں کے آمرانہ طرز عمل اورسرکاری دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا ہے
۔جناب میر واعظ نے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں سے جس طرح سے پُرامن مظاہرین پر پولیس کی جانب سے بلا جوازفائرنگ اور بے پناہ تشددڈھانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے،ایسا لگتاہے کہ پولیس کی نظرﺅں میں انسانی جانوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔اُنہوںنے قابض حکمرانوں کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فی الفور ظلم وجبر کو اس سلسلے کو فوری طو ر بند کریں، ورنہ عوامی رد عمل کے نتیجے میں جو صورتحال پیدا ہوگی اُس کی ساری زمہ داری قابض حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
جناب میر واعظ اور حریت رہنماءجناب مختار احمد وازہ نے بشارت احمد ولدمحمد مقبول ساکنہ لارکی پورہ ڈورواسلام آباد کو 36 RR کی جانب سے گرفتاری کی بعددوران حراست شہید کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وادی کے طول و عرض میں پولیس اورفورسز کی ظالمانہ روش اُن ارادوں کی عکاس ہے جس کے زریعے وہ یہاں کے لوگوںکے جذبہ حریت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ظلم و جبر کے بل پر زیاد دیر تک کشمیری عوام کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے بجائے بھارت کویہاں کے زمینی حقائق کا سامنا کرتے ہوئے مسلہ کشمیر کو اس کے تاریخی پس منظر میں حل کرنے کی سمت ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیں۔
دریں اثناءحریت چیرمین کی ہدایت پر حریت رہنماء ظفر اکبر بٹ کی قیادت میں ایک وفد جس میں جاوید احمد میر اور بشیر احمدشامل ہیں ،آج جب بارہمولہ میں شہید ہوئے افراد کے جلوس جنازہ میں شرکت کرنے کے لئے بارہمولہ کی طرف روانہ ہوئی،تو پٹن کے قریب پولیس نے اِن رہنماﺅں کو گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن پٹن میں مقیدکردیا۔حریت ترجمان نے پولیس کی اس ظالمانہ کاروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
